Sunday, August 30, 2026

چراغ ابھی روشن ہے

 

چراغ ابھی روشن ہے

اس شہر میں اسے آئے ہوئے کئی برس گزر چکے تھے۔

ابتدا میں وہ یہاں اجنبی تھا۔ چند گلیاں، چند نئے چہرے، چند رسمی ملاقاتیں—بس اتنا ہی تعلق تھا۔ مگر وہ ان لوگوں میں سے نہیں تھا جو کسی جگہ صرف رہتے ہیں۔ جہاں اس کا گھر بنتا، وہاں آہستہ آہستہ اس کا دل بھی بسنے لگتا۔

اس نے یہاں بھی وہی کیا جو وہ ہمیشہ سے کرتا آیا تھا۔

کسی بچے کو پڑھائی میں مدد چاہیے ہو تو وہ موجود ہوتا۔ نوجوانوں کے لیے کوئی سرگرمی ہو تو سب سے پہلے ہاتھ بڑھاتا۔ والدین کے لیے کوئی نشست ہو تو انتظام میں لگ جاتا۔ کسی اجتماعی کام کے لیے لوگوں کو اکٹھا کرنا ہو تو وہ خاموشی سے دروازے کھٹکھٹاتا۔

اسے کبھی یہ خیال نہیں آیا کہ وہ کوئی بڑا کام کر رہا ہے۔

اس کے نزدیک خدمت کا مطلب ہی یہ تھا کہ جہاں ضرورت نظر آئے، وہاں خود کو حاضر کر دیا جائے۔

شاید اسی لیے اس نے کبھی یہ حساب بھی نہیں رکھا کہ اس نے کتنا وقت دیا، کتنی سرگرمیوں میں حصہ لیا، کتنے لوگوں کے ساتھ بیٹھا یا کتنی بار اپنا کام چھوڑ کر کسی اور کے کام آیا۔

وہ بس کرتا رہا۔

اور کرتے کرتے ایک دن اسے احساس ہوا کہ وہ اس جگہ میں اجنبی نہیں رہا۔

اس نے یہاں اپنا گھر بنا لیا تھا۔

صرف اینٹوں اور پتھروں کا نہیں۔

لوگوں کے درمیان۔

پھر ایک دن، کئی برس بعد، ایک معمولی سا واقعہ پیش آیا۔

بظاہر معمولی۔

اتنا معمولی کہ شاید کسی دوسرے شخص کے لیے چند لمحوں کی تلخی سے زیادہ کچھ نہ ہوتا۔

مگر بعض واقعات اپنی شدت سے نہیں، اپنی جگہ سے انسان کو توڑتے ہیں۔

وہ ایک بڑے اجتماعی دن کے بعد لوگوں کے ہجوم میں گھر کی طرف جا رہا تھا کہ اچانک ایک شخص نے اس کا راستہ روک لیا۔

چند سخت الفاظ۔

کچھ ایسا لہجہ جس کی اسے توقع نہیں تھی۔

اور چند لمحوں کے لیے وہ وہیں کھڑا رہ گیا۔

اسے غصے سے زیادہ حیرت ہوئی۔

اس لیے نہیں کہ دنیا میں بدتمیز لوگ نہیں ہوتے۔

بلکہ اس لیے کہ اسے یقین تھا کہ یہاں ایسا نہیں ہوگا۔

وہ اس جگہ کو اپنا سمجھتا تھا۔

اور شاید دل کی گہرائی میں یہ بھی سمجھتا تھا کہ جس کمیونٹی کے لیے انسان برسوں خلوص سے کام کرے، وہاں اگر کوئی اختلاف بھی ہو تو کم از کم عزت کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوٹے گا۔

مگر اس دن دامن چھوٹ گیا۔

وہ خاموشی سے واپس آیا۔

اس نے شور نہیں کیا۔

کسی کو برا بھلا نہیں کہا۔

صرف اس واقعے کی تمام تفصیلات ان لوگوں تک پہنچا دیں جنہیں وہ اس معاملے کو دیکھنے کا اہل سمجھتا تھا۔

پھر انتظار شروع ہوا۔

ایک مہینہ گزر گیا۔

کوئی جواب نہیں آیا۔

دوسرا مہینہ آیا اور گزر گیا۔

پھر تیسرا۔

خاموشی اپنی جگہ قائم رہی۔

وہ ہر گزرتے دن کے ساتھ ایک عجیب سوال اپنے اندر اٹھتا محسوس کرتا:

"کیا واقعی کسی نے محسوس نہیں کیا کہ میرے ساتھ کچھ ہوا ہے؟"

پھر ایک اور سوال آیا:

"یا شاید کسی نے محسوس کیا، مگر کسی کو پوچھنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی؟"

اس نے کسی سے کچھ نہیں کہا۔

بس آہستہ آہستہ پیچھے ہٹنے لگا۔

پہلے ایک سرگرمی سے۔

پھر دوسری سے۔

پھر ایک دن اس نے وہ کمیٹی بھی چھوڑ دی جس کا حصہ رہ کر وہ برسوں کام کرتا رہا تھا۔

لوگوں نے شاید اس کی غیر موجودگی محسوس کی۔

وہ جانتا تھا کہ محسوس کی۔

مگر عجیب بات یہ تھی کہ کسی نے اس سے پوچھا نہیں:

"تم اچانک اتنے خاموش کیوں ہوگئے؟"

اور کبھی کبھی انسان کو انصاف سے پہلے صرف ایک سوال چاہیے ہوتا ہے۔

ایک سادہ سا سوال۔

"کیا ہوا ہے؟"

مگر وہ سوال نہیں آیا۔

وقت گزرتا گیا۔

ایک سال۔

پھر دوسرا۔

وہ اب بھی اسی شہر میں رہتا تھا۔

وہی سڑکیں تھیں۔

وہی لوگ تھے۔

وہی کمیونٹی تھی۔

اس کا گھر بھی وہیں تھا۔

مگر اس کے اندر کچھ بدل چکا تھا۔

اس نے خدمت کرنا نہیں چھوڑا تھا۔

یہ بات شاید سب سے کم لوگوں نے سمجھی۔

وہ آج بھی کسی دوسری جگہ جاتا، نوجوانوں کے ساتھ بیٹھتا، بچوں کے لیے کچھ کرتا، کسی پروگرام میں ہاتھ بٹاتا، کسی ضرورت مند کے کام آتا۔

وہ چراغ جو برسوں سے اس کے اندر جل رہا تھا، وہ اب بھی روشن تھا۔

بس اس نے ایک جگہ اس چراغ کو جلانا چھوڑ دیا تھا۔

ایک شام وہ ایک چھوٹے سے اجتماع سے واپس آ رہا تھا۔ وہاں اس نے چند نوجوانوں کے ساتھ کئی گھنٹے گزارے تھے۔ جاتے ہوئے ایک لڑکے نے اس کا ہاتھ پکڑ کر کہا تھا:

"آپ اگلی بار بھی آئیں گے نا؟"

وہ مسکرایا تھا۔

"ہاں، کیوں نہیں۔"

راستے میں اسے اچانک خیال آیا کہ شاید انسان کا کام ہر دروازے پر روشنی کرنا نہیں ہوتا۔

کچھ دروازے بند بھی ملتے ہیں۔

کچھ جگہیں خاموش بھی رہتی ہیں۔

اور کچھ لوگ آپ کے خلوص کو سمجھ نہیں پاتے۔

مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ چراغ بجھا دیا جائے۔

چراغ کا کام روشنی دینا ہے۔

جہاں روشنی کی قدر نہ ہو، وہاں چراغ کو زبردستی جلائے رکھنا بھی ضروری نہیں۔

کبھی کبھی اسے اٹھا کر آگے بڑھ جانا چاہیے۔

وہ چلتا رہا۔

اس کے پیچھے شہر کی روشنیاں تھیں۔

آگے بھی کچھ گھر تھے۔

کچھ اجنبی چہرے تھے۔

کچھ نئے بچے تھے۔

کچھ نوجوان تھے جنہیں شاید کسی ایسے شخص کی ضرورت تھی جو ان سے کہے:

"چلو، کچھ کرتے ہیں۔"

وہ مسکرایا۔

اور آگے بڑھ گیا۔

کیونکہ اس نے ایک بات سیکھ لی تھی:

خدمت ختم نہیں ہوئی تھی۔
صرف راستہ بدل گیا تھا۔

اور چراغ؟

چراغ ابھی روشن تھا۔

Thursday, August 13, 2026

رجاکی سے رضاکاری تک

رجاکی سے رضاکاری تک

ایک لفظ، ایک تاریخ اور اجتماعی شعور کا سفر

درویش کریم،  وادی ہنزہ

کبھی کبھی ہماری زبان میں کچھ ایسے الفاظ زندہ رہ جاتے ہیں جن کے پیچھے ایک پوری تاریخ دفن ہوتی ہے۔ ہم انہیں روزمرہ زندگی میں بے تکلف استعمال کرتے رہتے ہیں، مگر شاید ہی کبھی رک کر سوچتے ہیں کہ یہ لفظ کہاں سے آیا، اس کا اصل مفہوم کیا تھا، اور وقت کے ساتھ اس کے معنی میں کیا تبدیلی آئی۔ بروشسکی زبان  کا ایک لفظ    رجاکی بھی شاید ایسا ہی ایک لفظ ہے۔

گلگت بلتستان، بالخصوص ہنزہ نگر کے معاشرتی تناظر میں رجاکی ایک عام  اصطلاح ہے۔ آج اگر کسی گاؤں میں نہر کی صفائی کا کام ہو، کسی عبادت خانے کی تعمیر و مرمت کا مرحلہ درپیش ہو، راستہ بنانا ہو، برف ہٹانی ہو یا کوئی اور اجتماعی نوعیت کا کام ہو، تو لوگ اسے عموماً رجاکی ہی کہتے ہیں۔  بظاہر اس میں کوئی قباحت نہیں۔ یہ ہماری اجتماعی زندگی کا ایک خوبصورت پہلو بھی معلوم ہوتا ہے کہ لوگ اپنے ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر اجتماعی ضرورت کے لیے وقت، محنت اور وسائل فراہم کرتے ہیں۔  لیکن سوال یہ ہے کہ کیا رجاکی واقعی اس جذبے کی درست ترجمانی کرتا ہے؟  شاید نہیں۔

مقامی تاریخی روایت اور بعض تحقیقی حوالوں سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ ہنزہ کے قدیم سماجی و سیاسی نظام میں رجاکی کا تعلق ایسے اجتماعی یا لازمی مشقت کے نظام سے تھا جس میں لوگوں کو حکمران یا میر کے مفاد، زمین یا ریاستی ضرورت کے تحت کام کے لیے بلایا جاتا تھا۔ بعض مطالعات اسے باقاعدہ جبری و اجتماعی مشقت کے طور پر بیان کرتے ہیں۔

یعنی اس کام میں اجتماعیت تو تھی، مگر اختیار شاید نہیں تھا۔ لوگ اکٹھے ہوتے تھے، کام کرتے تھے، محنت کرتے تھے، لیکن اس لیے نہیں کہ انہوں نے اپنی مرضی سے کسی اجتماعی مقصد کو قبول کیا تھا؛ بلکہ اس لیے کہ ایسا کرنا ان کی ذمہ داری، مجبوری یا حکومتی تقاضا تھا۔

یہاں ایک بنیادی فرق پیدا ہوتا ہے۔ اجتماعی کام اور رضاکارانہ اجتماعی خدمت ایک ہی چیز نہیں۔ 

آج ہم جب اپنے گاؤں کی نہر صاف کرنے کے لیے اکٹھے ہوتے ہیں، مسجد کی تعمیر کے لیے اینٹیں اٹھاتے ہیں، کسی کمیونیٹی ہال کی مرمت کے لیے چندہ دیتے ہیں، راستہ بناتے ہیں یا کسی قدرتی آفت میں ایک دوسرے کے گھروں تک مدد کے لیے  پہنچتے ہیں تو اس عمل کی اصل روح رضامندی، باہمی تعاون اور اجتماعی ذمہ داری  ہوتی ہے۔ مگر ہم اسے اب بھی رجاکی  ہی کہتے ہیں۔ شاید یہاں ہمیں تھوڑا سا رک کر سوچنے کی ضرورت ہے۔

ایک لفظ، دو مختلف زمانے ۔   دلچسپ بات یہ ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ رجاکی کے مفہوم میں ایک اور تبدیلی بھی آئی ہے۔  آج ہماری روزمرہ زبان میں اگر کوئی شخص کسی کام کو دل سے نہ کرے، ٹال مٹول کرے، مجبوری کے حالت میں  کرے یا بادلِ نخواستہ کسی کام میں شریک ہو تو بھی کہا جاتا ہے کہ  "یہ تو رجاکی کر رہا ہے"۔ گویا لفظ کے اندر کہیں نہ کہیں مجبوری، بے دلی اور ناگواری کا مفہوم اب بھی زندہ ہے۔

پھر یہی لفظ ہم اس وقت بھی استعمال کرتے ہیں جب پورا گاؤں کسی اجتماعی فلاحی کام کے لیے رضاکارانہ طور پر اکٹھا ہو۔  یہاں ایک عجیب سا معنوی تضاد پیدا ہوتا ہے۔

ایک طرف رجاکی = مجبوری سے کیا جانے والا کام ، اور دوسری طرف رجاکی = اپنی خوشی سے اجتماعی بھلائی کے لیے کیا جانے والا کام۔  تو سوال یہ نہیں کہ ہمارا اجتماعی کام غلط ہے۔ بلکہ سوال صرف یہ ہے کہ کیا اس خوبصورت جذبے کے لیے ہمارے پاس اس سے بہتر  کوئی لفظ نہیں ہونا چاہیے؟

یہ بات بھی اہم ہے کہ رجاکی کے تاریخی پس منظر میں اگرچہ جبر یا لازمی مشقت کا عنصر موجود تھا، لیکن اس روایت نے مقامی معاشرے میں اجتماعی تعاون کی ایک ایسی صلاحیت بھی پیدا کی جس کی جھلک آج تک دیکھی جا سکتی ہے۔ ہنزہ کے روایتی آبپاشی نظام، نہروں اور مشترکہ آبی وسائل کی دیکھ بھال میں اجتماعی محنت کا کردار  اہم رہا ہے۔  جدید مطالعات بھی  رجاکی کو ہنزہ میں مشترکہ وسائل کے انتظام اور ایک مقامی روایت کے طور پر بیان کرتے ہیں۔ اور شاید ہماری اجتماعی تہذیب کی سب سے بڑی خوبصورتی  بھی یہی ہے  

پہاڑوں میں زندگی کبھی آسان نہیں رہی۔ پانی لانا، نہریں بنانا، زمین آباد کرنا، راستے تعمیر کرنا، برف ہٹانا اور قدرتی آفات کا مقابلہ کرنا،یہ سب کام ایک فرد کے بس کی بات نہیں تھے۔ یہاں "میں" سے زیادہ "ہم" اہم تھا۔ شاید اسی لیے اجتماعی محنت ہماری سماجی ساخت کا حصہ بنی۔ مگر آج ہمارے پاس ایک موقع ہے، ہم اس اجتماعی روح کو برقرار رکھتے ہوئے اس کے نام اور مفہوم کو بھی اپنے موجودہ شعور کے مطابق ازسرنو بیان کر سکتے ہیں۔

میرے خیال میں ہمیں"رجاکی" کے بجائے   "رضاکاری"  جیسے  کسی اور متعلقہ لفظ پر غور کرنا چاہیے۔  فرق صرف ایک لفظ کا نہیں، ایک سوچ کا ہے۔ رجاکی میں اگر ماضی کی مجبوری کی بازگشت ہے تو رضاکاری میں اختیار ہے۔ رجاکی میں حکم کی تعمیل کا تصور ہوسکتا ہے تو رضاکاری میں شعوری انتخاب ہے۔  رجاکی میں "مجھے کرنا پڑے گا " ہوسکتا ہے تو رضاکاری  میں "میں کرنا چاہتا ہوں" کی  کیفیت ہے۔  اور یہی فرق کسی بھی زندہ معاشرے کی اصل طاقت بنتا ہے۔

اگر میں اپنے گاؤں کی نہر صاف کرنے جاتا ہوں کیونکہ مجھے ڈر ہے کہ اگر میں نہ گیا تو لوگ کیا کہیں گے، تو یہ محض اجتماعی دباؤ ہے۔ لیکن اگر میں اس لیے جاتا ہوں کہ مجھے احساس ہے کہ یہ نہر صرف میرے پڑوسی کے گھر تک پانی نہیں پہنچاتی، بلکہ میرے پورے گاؤں کی زندگی سے جڑی ہوئی ہے، تو یہ رضاکاری ہے۔ یہی فرق ہمیں اپنی نئی نسل کو سمجھانے کی ضرورت ہے۔

 لفظ بدلنے سے کیا ہوگا؟ کوئی یہ سوال بھی اٹھا سکتا ہے کہ آخر ایک لفظ بدلنے سے کیا فرق پڑے گا؟

بہت فرق پڑ سکتا ہے۔ الفاظ صرف گفتگو کا ذریعہ نہیں ہوتے؛ الفاظ ہمارے خیالات، رویوں اور اجتماعی شعور کو بھی تشکیل دیتے ہیں۔ اگر ہم کسی بچے سے کہیں کہ "کل رجاکی ہے، سب کو جانا ہے"   تو ممکن ہے اس کے ذہن میں ایک ایسا کام آئے جسے اسے کرنا ہی پڑے گا۔  لیکن اگر ہم کہیں  کہ "کل ہمارے گاؤں کی رضاکارانہ اجتماعی خدمت ہے، سب مل کر نہر صاف کریں گے"  تو پیغام بدل جاتا ہے۔ اب وہ کام محض ایک ذمہ داری نہیں رہتا؛ وہ شراکت بن جاتا ہے۔ وہ صرف مشقت نہیں رہتا؛ وہ خدمت بن جاتا ہے۔ اور وہ صرف حکم کی تعمیل نہیں رہتا؛ وہ اجتماعی ملکیت کا احساس بن جاتا ہے۔  

 ہمیں اپنی روایات کو ختم نہیں کرنا چاہیے۔ بلکہ ہمیں اپنی روایات کے اندر چھپی ہوئی خوبصورتی کو تلاش کرنا چاہیے اور جو چیز وقت کے ساتھ اپنی معنویت کھو چکی ہو، اسے نئے شعور کے ساتھ بیان کرنا چاہیے۔ ہمارے بزرگوں نے مل کر نہریں بنائیں، راستے بنائے، زمینیں  آباد کیں، ایک دوسرے کے مشکل وقت میں ساتھ دیا، اور  یہ سب کچھ  انہوں نے اس لیے کیا کیونکہ وہ جانتے تھے کہ پہاڑوں میں کوئی فرد اکیلا زندہ نہیں رہ سکتا۔ اجتماع میں  ہی طاقت تھا۔ آج حالات بدل گئے ہیں۔ ہماری ضروریات بدل گئی ہیں۔ ہمارے وسائل بدل گئے ہیں۔ ہمارے پاس مشینیں ہیں، ادارے ہیں، حکومتیں ہیں اور جدید سہولیات ہیں۔ لیکن ایک چیز آج بھی اتنی ہی اہم ہے اور وہ ہے  کہ "ایک دوسرے کے لیے  ضرورت پہ کھڑے ہونے کا جذبہ"۔ اس جذبے کو زندہ رکھنے کے لیے ہمیں شاید "رجاکی" کی نہیں، بلکہ ایک ایسے تصور کی ضرورت ہے جو اختیار، محبت، خدمت اور اجتماعی ذمہ داری کو یکجا کرے۔     یہ بھی ضروری ہے کہ ہم ماضی کے کسی لفظ کو محض اس لیے رد نہ کردیں کہ اس کا تاریخی پس منظر مشکل یا متضاد رہا ہے۔

رجاکی ہماری اجتماعی تاریخ کا حصہ ہے۔ اسے مٹانے کی ضرورت نہیں۔ اسے سمجھنے کی ضرورت ہے۔ ہم اسے تاریخ کے ایک اہم ورثے کے طور پر محفوظ رکھ سکتے ہیں، اس پر تحقیق کر سکتے ہیں، اپنے بچوں کو اس کے تاریخی پس منظر سے آگاہ کر سکتے ہیں اور یہ بتا سکتے ہیں کہ کس طرح ایک ہی روایت وقت کے ساتھ مختلف معنی اختیار کرتی رہی۔

لیکن جب ہم آج کی رضاکارانہ اجتماعی خدمت کی بات کریں تو شاید رجاکی کے بجائے کوئی ایسا لفظ استعمال کرنا زیادہ مناسب ہوگا جو ہمارے موجودہ اجتماعی شعور کی ترجمانی کرے۔ یا شاید  بروشسکی زبان سے  ہی ایسا کوئی  خوبصورت لفظ دریافت کیا جائے جو اس جذبے کو زیادہ بیان کر سکے۔

  آخر میں، شاید اصل سوال یہ نہیں کہ  ر جاکی کہنا ہے یا نہیں کہنا؟   اصل سوال یہ ہے کہ "ہم اپنی آنے والی نسل کو اجتماعی خدمت کا کون سا تصور دینا چاہتے ہیں؟"  کیا ہم چاہتے ہیں کہ وہ اجتماعی کام کو ایک ایسی ذمہ داری سمجھیں جو انہیں کسی کے حکم پر، دباؤ میں یا بادلِ نخواستہ کرنی ہے؟ یا ہم چاہتے ہیں کہ وہ یہ سمجھیں کہ یہ میرا گاؤں ہے، یہ میری نہر ہے، یہ میری مسجد ہے، یہ میرا جماعت خانہ ہے، یہ میرا راستہ ہے، اور اس کی بہتری میں میرا حصہ بھی ہے۔ اگر دوسرا تصور ہمارا مقصد ہے تو پھر شاید ہمیں اپنی زبان میں بھی اس کے لیے ایک نیا شعوری راستہ بنانا ہوگا۔

رجاکی شاید ہمارے ماضی کی ایک یاد ہے؛ رضاکاری  جیسا کوئی لفظ ہمارے مستقبل کا ایک انتخاب ہوسکتی ہے۔ اور شاید یہی وہ سفر ہے جس کی ہمیں ضرورت ہے، مجبوری سے اختیار تک، حکم سے شعور تک، مشقت سے خدمت تک، اور رجاکی سے رضاکاری تک۔ کیونکہ کسی معاشرے کی اصل ترقی صرف اس وقت نہیں ہوتی جب لوگ مل کر کام کریں؛

اصل ترقی اس وقت ہوتی ہے جب لوگ مل کر کام کرنے کو اپنا حق، اپنی ذمہ داری اور اپنی خوشی سمجھنے لگیں۔


چراغ ابھی روشن ہے

  چراغ ابھی روشن ہے اس شہر میں اسے آئے ہوئے کئی برس گزر چکے تھے۔ ابتدا میں وہ یہاں اجنبی تھا۔ چند گلیاں، چند نئے چہرے، چند رسمی ملاقاتی...