Wednesday, September 23, 2026

کھیل صرف کھیل نہیں بلکہ صحت مند معاشرے کی بنیاد بھی ہے

 

کھیل صرف کھیل نہیں  بلکہ صحت مند معاشرے کی بنیاد بھی ہے

درویش کریم، وادی ہنزہ

کسی بھی معاشرے میں کھیلوں کی سرگرمیاں محض تفریح کا ذریعہ  ہی نہیں ہوتیں۔ بلکہ کھیل دراصل نوجوانوں کی جسمانی صحت، ذہنی نشوونما، باہمی تعلقات، نظم و ضبط، برداشت اور اجتماعی شعور کی تربیت کا ایک مؤثر ذریعہ بھی  ہیں۔ خصوصاً ایسے معاشرے میں جہاں نوجوان آبادی کا ایک بڑا حصہ ہوں، وہاں کھیلوں کے میدان آباد رکھنا ایک صحت مند اور متحرک معاشرے کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

ہنزہ جیسے خوبصورت، پُرامن اور باصلاحیت خطے میں فٹبال، فٹسال، کرکٹ، والی بال ، درابی اور اور دیگر مقامی  کھیلوں کے مقابلے محض چند گھنٹوں کی سرگرمی ہی  نہیں ہوتے۔ بلکہ ان کے پیچھے نوجوانوں کی محنت، منتظمین کی کئی ہفتوں کی تیاری، رضاکاروں کا وقت، مقامی لوگوں کا تعاون اور پوری کمیونٹی کی اجتماعی شرکت شامل ہوتی ہے۔

آج کے نوجوان کے سامنے سب سے بڑا چیلنج صرف تعلیم یا روزگار نہیں بلکہ اپنے وقت کو مثبت اور تعمیری سرگرمیوں میں استعمال کرنا بھی ہے۔ کھیل نوجوانوں کو ایک صحت مند مصروفیت فراہم کرتے ہیں۔ میدان میں اترنے والا نوجوان صرف گیند کو نہیں کھیلتا؛ بلکہ وہ وقت کی پابندی، ٹیم ورک، ذمہ داری، قیادت، فیصلے کرنے اور شکست کو برداشت کرنے کا ہنر بھی سیکھتا ہے۔ کھیل نوجوان کو یہ سکھاتے ہیں کہ کامیابی صرف انفرادی صلاحیت کا نام نہیں بلکہ اجتماعی کوشش کا نتیجہ بھی ہو سکتی ہے۔

کھیلوں کے سب سے واضح فوائد میں جسمانی صحت شامل ہے، لیکن ان کے اثرات جسم تک محدود نہیں رہتے۔ باقاعدہ جسمانی سرگرمی نوجوانوں میں ذہنی تازگی، اعتماد اور مثبت سوچ پیدا کرنے میں مدد دیتی ہے۔ ایک مصروف اور صحت مند نوجوان کے پاس اپنی توانائی کو مثبت سمت میں استعمال کرنے کے زیادہ مواقع ہوتے ہیں۔ کھیل اسے گھر، موبائل فون اور سوشل میڈیا کی محدود دنیا سے نکال کر ایک حقیقی اجتماعی ماحول میں لے آتے ہیں، جہاں وہ دوسرے لوگوں کے ساتھ براہِ راست رابطہ قائم کرتا ہے۔

کسی بھی بڑے کھیلوں کے ٹورنامنٹ کی خوبصورتی یہ ہے کہ وہ مختلف خاندانوں، محلوں، دیہات اور سماجی حلقوں کے لوگوں کو ایک جگہ اکٹھا کرکے باہمی میل جول، سمجھ بوجھ اور تعلقات کو مضبوط بنانے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ کھیل نوجوانوں کو صرف جسمانی سرگرمی تک محدود نہیں رکھتے بلکہ ان میں قیادت، ذمہ داری، نظم و ضبط، ٹیم ورک، فیصلہ سازی اور دباؤ میں بہتر کارکردگی جیسی صلاحیتیں بھی پیدا کرتے ہیں، جبکہ منتظمین، رضاکار، ریفریز، میڈیا، ٹیکنیکل اور دیگر ٹیموں سے وابستہ نوجوان عملی زندگی کی اہم مہارتیں سیکھتے ہیں۔ بڑے کھیلوں کے مقابلے مقامی معیشت کو بھی متحرک کرتے ہیں، کیونکہ باہر سے آنے والے کھلاڑی، ٹیمیں اور تماشائی ٹرانسپورٹ، ہوٹل، ریستوران، دکانوں اور دیگر مقامی خدمات سے استفادہ کرتے ہیں۔ خصوصاً ہنزہ جیسے سیاحتی علاقے میں کھیل اور سیاحت ایک دوسرے کو تقویت دیتے ہوئے علاقے کا ایک متحرک، باصلاحیت اور نوجوان دوست تشخص اجاگر کر سکتے ہیں، جسے سوشل میڈیا کے ذریعے دنیا بھر تک پہنچایا جا سکتا ہے۔ سب سے بڑھ کر کھیل ہمیں مثبت مقابلے کا درس دیتے ہیں کہ مقابلہ دشمنی نہیں، بلکہ جیت پر عاجزی، شکست پر حوصلہ، مخالف کے لیے احترام اور مسلسل محنت ہی حقیقی کامیابی کی بنیاد ہے۔

ہنزہ پریمیئر لیگ جیسے مقامی کھیلوں کے مقابلے اس لیے اہم ہیں کہ یہ نوجوانوں کو اپنی صلاحیتیں دکھانے کے لیے ایک پلیٹ فارم فراہم کرتے ہیں۔ ایسے ایونٹس کے ذریعے مقامی ٹیلنٹ سامنے آتا ہے، نوجوانوں کو اپنے علاقے میں کھیلنے کے مواقع ملتے ہیں اور نئی نسل کے لیے رول ماڈلز پیدا ہوتے ہیں۔

کسی بھی ٹورنامنٹ کو کامیاب بنانے کے لیے منتظمین، کھلاڑیوں، رضاکاروں، اسپانسرز، ریفریز، میڈیا، والدین، تماشائیوں اور مقامی کمیونٹی کی مشترکہ کوشش درکار ہوتی ہے۔ اس اجتماعی محنت کو سمجھنا بھی ضروری ہے۔

کسی بھی بڑے پروگرام کے حوالے سے مختلف آراء کا سامنے آنا ایک فطری بات ہے۔ کسی واقعے کے بارے میں مختلف لوگوں کی حساسیت، ترجیحات اور نقطۂ نظر مختلف ہو سکتے ہیں۔ خصوصاً کسی المناک واقعے کے وقت کمیونٹی کے جذبات کا احترام سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ لیکن اسی کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ کسی ایک واقعے یا فیصلے کی بنیاد پر کھیلوں کی پوری سرگرمی کو غیر اہم قرار نہ دیا جائے۔ اسلیے ہمیں اختلاف کو الزام تراشی کے بجائے مکالمے میں تبدیل کرنا چاہیے۔

ہمیں اپنے علاقوں میں کھیلوں کے لیے بہتر سہولیات پیدا کرنے، نوجوانوں کے لیے محفوظ میدان فراہم کرنے، باقاعدہ ٹورنامنٹس منعقد کرنے اور کھیلوں کو تعلیم و تربیت کے ساتھ جوڑنے کی ضرورت ہے۔ ساتھ ہی بڑے ایونٹس کے لیے واضح سماجی اور اخلاقی رہنما اصول بھی ہونے چاہئیں، تاکہ کسی المناک واقعے یا حساس صورتحال کے دوران منتظمین مناسب اور متوازن فیصلے کر سکیں۔ ہمیں یاد رکھنا ہوگا کہ:

ایک آباد کھیل کا میدان صرف ایک میدان نہیں ہوتا۔  وہاں دوڑتے ہوئے نوجوانوں کے ساتھ امید دوڑتی ہے۔ وہاں ٹیم کے ساتھ اجتماعیت بنتی ہے۔ وہاں مقابلے کے ساتھ کردار بنتا ہے۔ وہاں شکست کے ساتھ حوصلہ پیدا ہوتا ہے۔ اور وہاں کامیابی کے ساتھ اعتماد جنم لیتا ہے۔  اس لیے کھیلوں کو صرف تفریح سمجھنا شاید ان کے وسیع تر سماجی کردار کو نظر انداز کرنا ہے۔

ہمیں اپنے نوجوانوں کے لیے کتاب کے ساتھ میدان، تعلیم کے ساتھ کھیل، اور کامیابی کے ساتھ کردار بھی فراہم کرنا ہوگا۔ کیونکہ ایک صحت مند معاشرہ صرف اچھے طالب علموں اور کامیاب پیشہ ور افراد سے نہیں بنتا؛ ایک صحت مند معاشرہ صحت مند، متحرک، باصلاحیت اور ذمہ دار نوجوانوں سے بنتا ہے۔ اور ایسے نوجوانوں کی تربیت میں کھیل کا میدان بھی ایک اہم درس گاہ ہے۔

آئیے کھیل کو صرف کھیل نہ سمجھیں، بلکہ اسے صحت مند نوجوان، مضبوط معاشرہ اور روشن مستقبل بنانے کی ایک خوبصورت کوشش سمجھیں۔ میدان آباد رہیں، نوجوانوں کے جذبے بلند رہیں، محبت اور بھائی چارہ قائم رہے اور ہنزہ ہمیشہ اپنی خوبصورتی کے ساتھ اپنی زندہ دلی کے لیے بھی پہچانا جائے۔

کھیل زندہ باد، نوجوان زندہ باد، ہنزہ پریمیئر لیگ زندہ باد،ہنزہ پائندہ باد،

24 ستمبر 2026

 

Sunday, August 30, 2026

چراغ ابھی روشن ہے

 

چراغ ابھی روشن ہے

اس شہر میں اسے آئے ہوئے کئی برس گزر چکے تھے۔

ابتدا میں وہ یہاں اجنبی تھا۔ چند گلیاں، چند نئے چہرے، چند رسمی ملاقاتیں—بس اتنا ہی تعلق تھا۔ مگر وہ ان لوگوں میں سے نہیں تھا جو کسی جگہ صرف رہتے ہیں۔ جہاں اس کا گھر بنتا، وہاں آہستہ آہستہ اس کا دل بھی بسنے لگتا۔

اس نے یہاں بھی وہی کیا جو وہ ہمیشہ سے کرتا آیا تھا۔

کسی بچے کو پڑھائی میں مدد چاہیے ہو تو وہ موجود ہوتا۔ نوجوانوں کے لیے کوئی سرگرمی ہو تو سب سے پہلے ہاتھ بڑھاتا۔ والدین کے لیے کوئی نشست ہو تو انتظام میں لگ جاتا۔ کسی اجتماعی کام کے لیے لوگوں کو اکٹھا کرنا ہو تو وہ خاموشی سے دروازے کھٹکھٹاتا۔

اسے کبھی یہ خیال نہیں آیا کہ وہ کوئی بڑا کام کر رہا ہے۔

اس کے نزدیک خدمت کا مطلب ہی یہ تھا کہ جہاں ضرورت نظر آئے، وہاں خود کو حاضر کر دیا جائے۔

شاید اسی لیے اس نے کبھی یہ حساب بھی نہیں رکھا کہ اس نے کتنا وقت دیا، کتنی سرگرمیوں میں حصہ لیا، کتنے لوگوں کے ساتھ بیٹھا یا کتنی بار اپنا کام چھوڑ کر کسی اور کے کام آیا۔

وہ بس کرتا رہا۔

اور کرتے کرتے ایک دن اسے احساس ہوا کہ وہ اس جگہ میں اجنبی نہیں رہا۔

اس نے یہاں اپنا گھر بنا لیا تھا۔

صرف اینٹوں اور پتھروں کا نہیں۔

لوگوں کے درمیان۔

پھر ایک دن، کئی برس بعد، ایک معمولی سا واقعہ پیش آیا۔

بظاہر معمولی۔

اتنا معمولی کہ شاید کسی دوسرے شخص کے لیے چند لمحوں کی تلخی سے زیادہ کچھ نہ ہوتا۔

مگر بعض واقعات اپنی شدت سے نہیں، اپنی جگہ سے انسان کو توڑتے ہیں۔

وہ ایک بڑے اجتماعی دن کے بعد لوگوں کے ہجوم میں گھر کی طرف جا رہا تھا کہ اچانک ایک شخص نے اس کا راستہ روک لیا۔

چند سخت الفاظ۔

کچھ ایسا لہجہ جس کی اسے توقع نہیں تھی۔

اور چند لمحوں کے لیے وہ وہیں کھڑا رہ گیا۔

اسے غصے سے زیادہ حیرت ہوئی۔

اس لیے نہیں کہ دنیا میں بدتمیز لوگ نہیں ہوتے۔

بلکہ اس لیے کہ اسے یقین تھا کہ یہاں ایسا نہیں ہوگا۔

وہ اس جگہ کو اپنا سمجھتا تھا۔

اور شاید دل کی گہرائی میں یہ بھی سمجھتا تھا کہ جس کمیونٹی کے لیے انسان برسوں خلوص سے کام کرے، وہاں اگر کوئی اختلاف بھی ہو تو کم از کم عزت کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوٹے گا۔

مگر اس دن دامن چھوٹ گیا۔

وہ خاموشی سے واپس آیا۔

اس نے شور نہیں کیا۔

کسی کو برا بھلا نہیں کہا۔

صرف اس واقعے کی تمام تفصیلات ان لوگوں تک پہنچا دیں جنہیں وہ اس معاملے کو دیکھنے کا اہل سمجھتا تھا۔

پھر انتظار شروع ہوا۔

ایک مہینہ گزر گیا۔

کوئی جواب نہیں آیا۔

دوسرا مہینہ آیا اور گزر گیا۔

پھر تیسرا۔

خاموشی اپنی جگہ قائم رہی۔

وہ ہر گزرتے دن کے ساتھ ایک عجیب سوال اپنے اندر اٹھتا محسوس کرتا:

"کیا واقعی کسی نے محسوس نہیں کیا کہ میرے ساتھ کچھ ہوا ہے؟"

پھر ایک اور سوال آیا:

"یا شاید کسی نے محسوس کیا، مگر کسی کو پوچھنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی؟"

اس نے کسی سے کچھ نہیں کہا۔

بس آہستہ آہستہ پیچھے ہٹنے لگا۔

پہلے ایک سرگرمی سے۔

پھر دوسری سے۔

پھر ایک دن اس نے وہ کمیٹی بھی چھوڑ دی جس کا حصہ رہ کر وہ برسوں کام کرتا رہا تھا۔

لوگوں نے شاید اس کی غیر موجودگی محسوس کی۔

وہ جانتا تھا کہ محسوس کی۔

مگر عجیب بات یہ تھی کہ کسی نے اس سے پوچھا نہیں:

"تم اچانک اتنے خاموش کیوں ہوگئے؟"

اور کبھی کبھی انسان کو انصاف سے پہلے صرف ایک سوال چاہیے ہوتا ہے۔

ایک سادہ سا سوال۔

"کیا ہوا ہے؟"

مگر وہ سوال نہیں آیا۔

وقت گزرتا گیا۔

ایک سال۔

پھر دوسرا۔

وہ اب بھی اسی شہر میں رہتا تھا۔

وہی سڑکیں تھیں۔

وہی لوگ تھے۔

وہی کمیونٹی تھی۔

اس کا گھر بھی وہیں تھا۔

مگر اس کے اندر کچھ بدل چکا تھا۔

اس نے خدمت کرنا نہیں چھوڑا تھا۔

یہ بات شاید سب سے کم لوگوں نے سمجھی۔

وہ آج بھی کسی دوسری جگہ جاتا، نوجوانوں کے ساتھ بیٹھتا، بچوں کے لیے کچھ کرتا، کسی پروگرام میں ہاتھ بٹاتا، کسی ضرورت مند کے کام آتا۔

وہ چراغ جو برسوں سے اس کے اندر جل رہا تھا، وہ اب بھی روشن تھا۔

بس اس نے ایک جگہ اس چراغ کو جلانا چھوڑ دیا تھا۔

ایک شام وہ ایک چھوٹے سے اجتماع سے واپس آ رہا تھا۔ وہاں اس نے چند نوجوانوں کے ساتھ کئی گھنٹے گزارے تھے۔ جاتے ہوئے ایک لڑکے نے اس کا ہاتھ پکڑ کر کہا تھا:

"آپ اگلی بار بھی آئیں گے نا؟"

وہ مسکرایا تھا۔

"ہاں، کیوں نہیں۔"

راستے میں اسے اچانک خیال آیا کہ شاید انسان کا کام ہر دروازے پر روشنی کرنا نہیں ہوتا۔

کچھ دروازے بند بھی ملتے ہیں۔

کچھ جگہیں خاموش بھی رہتی ہیں۔

اور کچھ لوگ آپ کے خلوص کو سمجھ نہیں پاتے۔

مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ چراغ بجھا دیا جائے۔

چراغ کا کام روشنی دینا ہے۔

جہاں روشنی کی قدر نہ ہو، وہاں چراغ کو زبردستی جلائے رکھنا بھی ضروری نہیں۔

کبھی کبھی اسے اٹھا کر آگے بڑھ جانا چاہیے۔

وہ چلتا رہا۔

اس کے پیچھے شہر کی روشنیاں تھیں۔

آگے بھی کچھ گھر تھے۔

کچھ اجنبی چہرے تھے۔

کچھ نئے بچے تھے۔

کچھ نوجوان تھے جنہیں شاید کسی ایسے شخص کی ضرورت تھی جو ان سے کہے:

"چلو، کچھ کرتے ہیں۔"

وہ مسکرایا۔

اور آگے بڑھ گیا۔

کیونکہ اس نے ایک بات سیکھ لی تھی:

خدمت ختم نہیں ہوئی تھی۔
صرف راستہ بدل گیا تھا۔

اور چراغ؟

چراغ ابھی روشن تھا۔

Thursday, August 13, 2026

رجاکی سے رضاکاری تک

رجاکی سے رضاکاری تک

ایک لفظ، ایک تاریخ اور اجتماعی شعور کا سفر

درویش کریم،  وادی ہنزہ

کبھی کبھی ہماری زبان میں کچھ ایسے الفاظ زندہ رہ جاتے ہیں جن کے پیچھے ایک پوری تاریخ دفن ہوتی ہے۔ ہم انہیں روزمرہ زندگی میں بے تکلف استعمال کرتے رہتے ہیں، مگر شاید ہی کبھی رک کر سوچتے ہیں کہ یہ لفظ کہاں سے آیا، اس کا اصل مفہوم کیا تھا، اور وقت کے ساتھ اس کے معنی میں کیا تبدیلی آئی۔ بروشسکی زبان  کا ایک لفظ    رجاکی بھی شاید ایسا ہی ایک لفظ ہے۔

گلگت بلتستان، بالخصوص ہنزہ نگر کے معاشرتی تناظر میں رجاکی ایک عام  اصطلاح ہے۔ آج اگر کسی گاؤں میں نہر کی صفائی کا کام ہو، کسی عبادت خانے کی تعمیر و مرمت کا مرحلہ درپیش ہو، راستہ بنانا ہو، برف ہٹانی ہو یا کوئی اور اجتماعی نوعیت کا کام ہو، تو لوگ اسے عموماً رجاکی ہی کہتے ہیں۔  بظاہر اس میں کوئی قباحت نہیں۔ یہ ہماری اجتماعی زندگی کا ایک خوبصورت پہلو بھی معلوم ہوتا ہے کہ لوگ اپنے ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر اجتماعی ضرورت کے لیے وقت، محنت اور وسائل فراہم کرتے ہیں۔  لیکن سوال یہ ہے کہ کیا رجاکی واقعی اس جذبے کی درست ترجمانی کرتا ہے؟  شاید نہیں۔

مقامی تاریخی روایت اور بعض تحقیقی حوالوں سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ ہنزہ کے قدیم سماجی و سیاسی نظام میں رجاکی کا تعلق ایسے اجتماعی یا لازمی مشقت کے نظام سے تھا جس میں لوگوں کو حکمران یا میر کے مفاد، زمین یا ریاستی ضرورت کے تحت کام کے لیے بلایا جاتا تھا۔ بعض مطالعات اسے باقاعدہ جبری و اجتماعی مشقت کے طور پر بیان کرتے ہیں۔

یعنی اس کام میں اجتماعیت تو تھی، مگر اختیار شاید نہیں تھا۔ لوگ اکٹھے ہوتے تھے، کام کرتے تھے، محنت کرتے تھے، لیکن اس لیے نہیں کہ انہوں نے اپنی مرضی سے کسی اجتماعی مقصد کو قبول کیا تھا؛ بلکہ اس لیے کہ ایسا کرنا ان کی ذمہ داری، مجبوری یا حکومتی تقاضا تھا۔

یہاں ایک بنیادی فرق پیدا ہوتا ہے۔ اجتماعی کام اور رضاکارانہ اجتماعی خدمت ایک ہی چیز نہیں۔ 

آج ہم جب اپنے گاؤں کی نہر صاف کرنے کے لیے اکٹھے ہوتے ہیں، مسجد کی تعمیر کے لیے اینٹیں اٹھاتے ہیں، کسی کمیونیٹی ہال کی مرمت کے لیے چندہ دیتے ہیں، راستہ بناتے ہیں یا کسی قدرتی آفت میں ایک دوسرے کے گھروں تک مدد کے لیے  پہنچتے ہیں تو اس عمل کی اصل روح رضامندی، باہمی تعاون اور اجتماعی ذمہ داری  ہوتی ہے۔ مگر ہم اسے اب بھی رجاکی  ہی کہتے ہیں۔ شاید یہاں ہمیں تھوڑا سا رک کر سوچنے کی ضرورت ہے۔

ایک لفظ، دو مختلف زمانے ۔   دلچسپ بات یہ ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ رجاکی کے مفہوم میں ایک اور تبدیلی بھی آئی ہے۔  آج ہماری روزمرہ زبان میں اگر کوئی شخص کسی کام کو دل سے نہ کرے، ٹال مٹول کرے، مجبوری کے حالت میں  کرے یا بادلِ نخواستہ کسی کام میں شریک ہو تو بھی کہا جاتا ہے کہ  "یہ تو رجاکی کر رہا ہے"۔ گویا لفظ کے اندر کہیں نہ کہیں مجبوری، بے دلی اور ناگواری کا مفہوم اب بھی زندہ ہے۔

پھر یہی لفظ ہم اس وقت بھی استعمال کرتے ہیں جب پورا گاؤں کسی اجتماعی فلاحی کام کے لیے رضاکارانہ طور پر اکٹھا ہو۔  یہاں ایک عجیب سا معنوی تضاد پیدا ہوتا ہے۔

ایک طرف رجاکی = مجبوری سے کیا جانے والا کام ، اور دوسری طرف رجاکی = اپنی خوشی سے اجتماعی بھلائی کے لیے کیا جانے والا کام۔  تو سوال یہ نہیں کہ ہمارا اجتماعی کام غلط ہے۔ بلکہ سوال صرف یہ ہے کہ کیا اس خوبصورت جذبے کے لیے ہمارے پاس اس سے بہتر  کوئی لفظ نہیں ہونا چاہیے؟

یہ بات بھی اہم ہے کہ رجاکی کے تاریخی پس منظر میں اگرچہ جبر یا لازمی مشقت کا عنصر موجود تھا، لیکن اس روایت نے مقامی معاشرے میں اجتماعی تعاون کی ایک ایسی صلاحیت بھی پیدا کی جس کی جھلک آج تک دیکھی جا سکتی ہے۔ ہنزہ کے روایتی آبپاشی نظام، نہروں اور مشترکہ آبی وسائل کی دیکھ بھال میں اجتماعی محنت کا کردار  اہم رہا ہے۔  جدید مطالعات بھی  رجاکی کو ہنزہ میں مشترکہ وسائل کے انتظام اور ایک مقامی روایت کے طور پر بیان کرتے ہیں۔ اور شاید ہماری اجتماعی تہذیب کی سب سے بڑی خوبصورتی  بھی یہی ہے  

پہاڑوں میں زندگی کبھی آسان نہیں رہی۔ پانی لانا، نہریں بنانا، زمین آباد کرنا، راستے تعمیر کرنا، برف ہٹانا اور قدرتی آفات کا مقابلہ کرنا،یہ سب کام ایک فرد کے بس کی بات نہیں تھے۔ یہاں "میں" سے زیادہ "ہم" اہم تھا۔ شاید اسی لیے اجتماعی محنت ہماری سماجی ساخت کا حصہ بنی۔ مگر آج ہمارے پاس ایک موقع ہے، ہم اس اجتماعی روح کو برقرار رکھتے ہوئے اس کے نام اور مفہوم کو بھی اپنے موجودہ شعور کے مطابق ازسرنو بیان کر سکتے ہیں۔

میرے خیال میں ہمیں"رجاکی" کے بجائے   "رضاکاری"  جیسے  کسی اور متعلقہ لفظ پر غور کرنا چاہیے۔  فرق صرف ایک لفظ کا نہیں، ایک سوچ کا ہے۔ رجاکی میں اگر ماضی کی مجبوری کی بازگشت ہے تو رضاکاری میں اختیار ہے۔ رجاکی میں حکم کی تعمیل کا تصور ہوسکتا ہے تو رضاکاری میں شعوری انتخاب ہے۔  رجاکی میں "مجھے کرنا پڑے گا " ہوسکتا ہے تو رضاکاری  میں "میں کرنا چاہتا ہوں" کی  کیفیت ہے۔  اور یہی فرق کسی بھی زندہ معاشرے کی اصل طاقت بنتا ہے۔

اگر میں اپنے گاؤں کی نہر صاف کرنے جاتا ہوں کیونکہ مجھے ڈر ہے کہ اگر میں نہ گیا تو لوگ کیا کہیں گے، تو یہ محض اجتماعی دباؤ ہے۔ لیکن اگر میں اس لیے جاتا ہوں کہ مجھے احساس ہے کہ یہ نہر صرف میرے پڑوسی کے گھر تک پانی نہیں پہنچاتی، بلکہ میرے پورے گاؤں کی زندگی سے جڑی ہوئی ہے، تو یہ رضاکاری ہے۔ یہی فرق ہمیں اپنی نئی نسل کو سمجھانے کی ضرورت ہے۔

 لفظ بدلنے سے کیا ہوگا؟ کوئی یہ سوال بھی اٹھا سکتا ہے کہ آخر ایک لفظ بدلنے سے کیا فرق پڑے گا؟

بہت فرق پڑ سکتا ہے۔ الفاظ صرف گفتگو کا ذریعہ نہیں ہوتے؛ الفاظ ہمارے خیالات، رویوں اور اجتماعی شعور کو بھی تشکیل دیتے ہیں۔ اگر ہم کسی بچے سے کہیں کہ "کل رجاکی ہے، سب کو جانا ہے"   تو ممکن ہے اس کے ذہن میں ایک ایسا کام آئے جسے اسے کرنا ہی پڑے گا۔  لیکن اگر ہم کہیں  کہ "کل ہمارے گاؤں کی رضاکارانہ اجتماعی خدمت ہے، سب مل کر نہر صاف کریں گے"  تو پیغام بدل جاتا ہے۔ اب وہ کام محض ایک ذمہ داری نہیں رہتا؛ وہ شراکت بن جاتا ہے۔ وہ صرف مشقت نہیں رہتا؛ وہ خدمت بن جاتا ہے۔ اور وہ صرف حکم کی تعمیل نہیں رہتا؛ وہ اجتماعی ملکیت کا احساس بن جاتا ہے۔  

 ہمیں اپنی روایات کو ختم نہیں کرنا چاہیے۔ بلکہ ہمیں اپنی روایات کے اندر چھپی ہوئی خوبصورتی کو تلاش کرنا چاہیے اور جو چیز وقت کے ساتھ اپنی معنویت کھو چکی ہو، اسے نئے شعور کے ساتھ بیان کرنا چاہیے۔ ہمارے بزرگوں نے مل کر نہریں بنائیں، راستے بنائے، زمینیں  آباد کیں، ایک دوسرے کے مشکل وقت میں ساتھ دیا، اور  یہ سب کچھ  انہوں نے اس لیے کیا کیونکہ وہ جانتے تھے کہ پہاڑوں میں کوئی فرد اکیلا زندہ نہیں رہ سکتا۔ اجتماع میں  ہی طاقت تھا۔ آج حالات بدل گئے ہیں۔ ہماری ضروریات بدل گئی ہیں۔ ہمارے وسائل بدل گئے ہیں۔ ہمارے پاس مشینیں ہیں، ادارے ہیں، حکومتیں ہیں اور جدید سہولیات ہیں۔ لیکن ایک چیز آج بھی اتنی ہی اہم ہے اور وہ ہے  کہ "ایک دوسرے کے لیے  ضرورت پہ کھڑے ہونے کا جذبہ"۔ اس جذبے کو زندہ رکھنے کے لیے ہمیں شاید "رجاکی" کی نہیں، بلکہ ایک ایسے تصور کی ضرورت ہے جو اختیار، محبت، خدمت اور اجتماعی ذمہ داری کو یکجا کرے۔     یہ بھی ضروری ہے کہ ہم ماضی کے کسی لفظ کو محض اس لیے رد نہ کردیں کہ اس کا تاریخی پس منظر مشکل یا متضاد رہا ہے۔

رجاکی ہماری اجتماعی تاریخ کا حصہ ہے۔ اسے مٹانے کی ضرورت نہیں۔ اسے سمجھنے کی ضرورت ہے۔ ہم اسے تاریخ کے ایک اہم ورثے کے طور پر محفوظ رکھ سکتے ہیں، اس پر تحقیق کر سکتے ہیں، اپنے بچوں کو اس کے تاریخی پس منظر سے آگاہ کر سکتے ہیں اور یہ بتا سکتے ہیں کہ کس طرح ایک ہی روایت وقت کے ساتھ مختلف معنی اختیار کرتی رہی۔

لیکن جب ہم آج کی رضاکارانہ اجتماعی خدمت کی بات کریں تو شاید رجاکی کے بجائے کوئی ایسا لفظ استعمال کرنا زیادہ مناسب ہوگا جو ہمارے موجودہ اجتماعی شعور کی ترجمانی کرے۔ یا شاید  بروشسکی زبان سے  ہی ایسا کوئی  خوبصورت لفظ دریافت کیا جائے جو اس جذبے کو زیادہ بیان کر سکے۔

  آخر میں، شاید اصل سوال یہ نہیں کہ  ر جاکی کہنا ہے یا نہیں کہنا؟   اصل سوال یہ ہے کہ "ہم اپنی آنے والی نسل کو اجتماعی خدمت کا کون سا تصور دینا چاہتے ہیں؟"  کیا ہم چاہتے ہیں کہ وہ اجتماعی کام کو ایک ایسی ذمہ داری سمجھیں جو انہیں کسی کے حکم پر، دباؤ میں یا بادلِ نخواستہ کرنی ہے؟ یا ہم چاہتے ہیں کہ وہ یہ سمجھیں کہ یہ میرا گاؤں ہے، یہ میری نہر ہے، یہ میری مسجد ہے، یہ میرا جماعت خانہ ہے، یہ میرا راستہ ہے، اور اس کی بہتری میں میرا حصہ بھی ہے۔ اگر دوسرا تصور ہمارا مقصد ہے تو پھر شاید ہمیں اپنی زبان میں بھی اس کے لیے ایک نیا شعوری راستہ بنانا ہوگا۔

رجاکی شاید ہمارے ماضی کی ایک یاد ہے؛ رضاکاری  جیسا کوئی لفظ ہمارے مستقبل کا ایک انتخاب ہوسکتی ہے۔ اور شاید یہی وہ سفر ہے جس کی ہمیں ضرورت ہے، مجبوری سے اختیار تک، حکم سے شعور تک، مشقت سے خدمت تک، اور رجاکی سے رضاکاری تک۔ کیونکہ کسی معاشرے کی اصل ترقی صرف اس وقت نہیں ہوتی جب لوگ مل کر کام کریں؛

اصل ترقی اس وقت ہوتی ہے جب لوگ مل کر کام کرنے کو اپنا حق، اپنی ذمہ داری اور اپنی خوشی سمجھنے لگیں۔


کھیل صرف کھیل نہیں بلکہ صحت مند معاشرے کی بنیاد بھی ہے

  کھیل صرف کھیل نہیں   بلکہ صحت مند معاشرے کی بنیاد بھی ہے درویش کریم، وادی ہنزہ کسی بھی معاشرے میں کھیلوں کی سرگرمیاں محض تفریح کا ذریع...