رجاکی
سے رضاکاری تک
ایک
لفظ، ایک تاریخ اور اجتماعی شعور کا سفر
درویش کریم، وادی ہنزہ
کبھی کبھی ہماری زبان میں
کچھ ایسے الفاظ زندہ رہ جاتے ہیں جن کے پیچھے ایک پوری تاریخ دفن ہوتی ہے۔ ہم
انہیں روزمرہ زندگی میں بے تکلف استعمال کرتے رہتے ہیں، مگر شاید ہی کبھی رک کر
سوچتے ہیں کہ یہ لفظ کہاں سے آیا، اس کا اصل مفہوم کیا تھا، اور وقت کے ساتھ اس کے
معنی میں کیا تبدیلی آئی۔ بروشسکی زبان کا
ایک لفظ رجاکی بھی شاید ایسا ہی ایک لفظ ہے۔
گلگت بلتستان، بالخصوص ہنزہ
نگر کے معاشرتی تناظر میں رجاکی ایک عام اصطلاح ہے۔ آج اگر کسی گاؤں میں نہر کی صفائی کا
کام ہو، کسی عبادت خانے کی تعمیر و مرمت کا مرحلہ درپیش ہو، راستہ بنانا ہو، برف
ہٹانی ہو یا کوئی اور اجتماعی نوعیت کا کام ہو، تو لوگ اسے عموماً رجاکی ہی کہتے
ہیں۔ بظاہر اس میں کوئی قباحت نہیں۔ یہ
ہماری اجتماعی زندگی کا ایک خوبصورت پہلو بھی معلوم ہوتا ہے کہ لوگ اپنے ذاتی
مفادات سے بالاتر ہو کر اجتماعی ضرورت کے لیے وقت، محنت اور وسائل فراہم کرتے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا رجاکی واقعی اس جذبے کی
درست ترجمانی کرتا ہے؟ شاید نہیں۔
مقامی تاریخی روایت اور بعض
تحقیقی حوالوں سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ ہنزہ کے قدیم سماجی و سیاسی نظام میں رجاکی
کا تعلق ایسے اجتماعی یا لازمی مشقت کے نظام سے تھا جس میں لوگوں کو حکمران یا میر
کے مفاد، زمین یا ریاستی ضرورت کے تحت کام کے لیے بلایا جاتا تھا۔ بعض مطالعات اسے
باقاعدہ جبری و اجتماعی مشقت کے طور پر بیان کرتے ہیں۔
یعنی اس کام میں اجتماعیت
تو تھی، مگر اختیار شاید نہیں تھا۔ لوگ اکٹھے ہوتے تھے، کام کرتے تھے، محنت کرتے
تھے، لیکن اس لیے نہیں کہ انہوں نے اپنی مرضی سے کسی اجتماعی مقصد کو قبول کیا
تھا؛ بلکہ اس لیے کہ ایسا کرنا ان کی ذمہ داری، مجبوری یا حکومتی تقاضا تھا۔
یہاں ایک بنیادی فرق پیدا
ہوتا ہے۔ اجتماعی کام اور رضاکارانہ اجتماعی خدمت ایک ہی چیز نہیں۔
آج ہم جب اپنے گاؤں کی نہر
صاف کرنے کے لیے اکٹھے ہوتے ہیں، مسجد کی تعمیر کے لیے اینٹیں اٹھاتے ہیں، کسی کمیونیٹی
ہال کی مرمت کے لیے چندہ دیتے ہیں، راستہ بناتے ہیں یا کسی قدرتی آفت میں ایک
دوسرے کے گھروں تک مدد کے لیے پہنچتے ہیں
تو اس عمل کی اصل روح رضامندی، باہمی تعاون اور اجتماعی ذمہ داری ہوتی ہے۔ مگر ہم اسے اب بھی رجاکی ہی کہتے ہیں۔ شاید یہاں ہمیں تھوڑا سا رک کر
سوچنے کی ضرورت ہے۔
ایک لفظ، دو مختلف زمانے ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ رجاکی کے
مفہوم میں ایک اور تبدیلی بھی آئی ہے۔ آج
ہماری روزمرہ زبان میں اگر کوئی شخص کسی کام کو دل سے نہ کرے، ٹال مٹول کرے، مجبوری
کے حالت میں کرے یا بادلِ نخواستہ کسی کام
میں شریک ہو تو بھی کہا جاتا ہے کہ "یہ تو رجاکی کر
رہا ہے"۔ گویا
لفظ کے اندر کہیں نہ کہیں مجبوری، بے دلی اور ناگواری کا مفہوم اب بھی زندہ ہے۔
پھر یہی لفظ ہم اس وقت بھی
استعمال کرتے ہیں جب پورا گاؤں کسی اجتماعی فلاحی کام کے لیے رضاکارانہ طور پر
اکٹھا ہو۔ یہاں ایک عجیب سا معنوی تضاد
پیدا ہوتا ہے۔
ایک طرف رجاکی = مجبوری سے
کیا جانے والا کام ، اور دوسری طرف رجاکی = اپنی خوشی سے اجتماعی بھلائی کے لیے
کیا جانے والا کام۔ تو سوال یہ نہیں کہ
ہمارا اجتماعی کام غلط ہے۔ بلکہ سوال صرف یہ ہے کہ کیا اس خوبصورت جذبے کے لیے
ہمارے پاس اس سے بہتر کوئی لفظ نہیں ہونا
چاہیے؟
یہ بات بھی اہم ہے کہ رجاکی
کے تاریخی پس منظر میں اگرچہ جبر یا لازمی مشقت کا عنصر موجود تھا، لیکن اس روایت
نے مقامی معاشرے میں اجتماعی تعاون کی ایک ایسی صلاحیت بھی پیدا کی جس کی جھلک آج
تک دیکھی جا سکتی ہے۔ ہنزہ کے روایتی آبپاشی نظام، نہروں اور مشترکہ آبی وسائل کی
دیکھ بھال میں اجتماعی محنت کا کردار اہم
رہا ہے۔ جدید مطالعات بھی رجاکی کو ہنزہ میں مشترکہ وسائل کے انتظام اور
ایک مقامی روایت کے طور پر بیان کرتے ہیں۔ اور شاید ہماری اجتماعی تہذیب کی سب سے
بڑی خوبصورتی بھی یہی ہے
پہاڑوں میں زندگی کبھی آسان
نہیں رہی۔ پانی لانا، نہریں بنانا، زمین آباد کرنا، راستے تعمیر کرنا، برف ہٹانا
اور قدرتی آفات کا مقابلہ کرنا،یہ سب کام ایک فرد کے بس کی بات نہیں تھے۔ یہاں "میں"
سے زیادہ "ہم" اہم تھا۔ شاید اسی لیے اجتماعی محنت ہماری سماجی ساخت کا
حصہ بنی۔ مگر آج ہمارے پاس ایک موقع ہے، ہم اس اجتماعی روح کو برقرار رکھتے ہوئے
اس کے نام اور مفہوم کو بھی اپنے موجودہ شعور کے مطابق ازسرنو بیان کر سکتے ہیں۔
میرے خیال میں ہمیں"رجاکی"
کے بجائے "رضاکاری" جیسے کسی
اور متعلقہ لفظ پر غور کرنا چاہیے۔ فرق
صرف ایک لفظ کا نہیں، ایک سوچ کا ہے۔ رجاکی میں اگر ماضی کی مجبوری کی بازگشت ہے
تو رضاکاری میں اختیار ہے۔ رجاکی میں حکم کی تعمیل کا تصور ہوسکتا ہے تو رضاکاری
میں شعوری انتخاب ہے۔ رجاکی میں "مجھے
کرنا پڑے گا " ہوسکتا ہے تو رضاکاری میں "میں کرنا چاہتا ہوں" کی کیفیت ہے۔
اور یہی فرق کسی بھی زندہ معاشرے کی اصل طاقت بنتا ہے۔
اگر میں اپنے گاؤں کی نہر
صاف کرنے جاتا ہوں کیونکہ مجھے ڈر ہے کہ اگر میں نہ گیا تو لوگ کیا کہیں گے، تو یہ
محض اجتماعی دباؤ ہے۔ لیکن اگر میں اس لیے جاتا ہوں کہ مجھے احساس ہے کہ یہ نہر
صرف میرے پڑوسی کے گھر تک پانی نہیں پہنچاتی، بلکہ میرے پورے گاؤں کی زندگی سے جڑی
ہوئی ہے، تو یہ رضاکاری ہے۔ یہی فرق ہمیں اپنی نئی نسل کو سمجھانے کی ضرورت ہے۔
لفظ بدلنے سے کیا ہوگا؟ کوئی یہ سوال بھی اٹھا سکتا ہے کہ آخر ایک لفظ
بدلنے سے کیا فرق پڑے گا؟
بہت فرق پڑ سکتا ہے۔ الفاظ
صرف گفتگو کا ذریعہ نہیں ہوتے؛ الفاظ ہمارے خیالات، رویوں اور اجتماعی شعور کو بھی
تشکیل دیتے ہیں۔ اگر ہم کسی بچے سے کہیں کہ "کل رجاکی ہے، سب کو جانا ہے" تو ممکن ہے اس کے ذہن میں ایک ایسا کام آئے
جسے اسے کرنا ہی پڑے گا۔ لیکن اگر ہم کہیں
کہ "کل ہمارے گاؤں کی رضاکارانہ
اجتماعی خدمت ہے، سب مل کر نہر صاف کریں گے"
تو پیغام بدل جاتا ہے۔ اب وہ کام محض ایک ذمہ داری نہیں رہتا؛ وہ شراکت بن
جاتا ہے۔ وہ صرف مشقت نہیں رہتا؛ وہ خدمت بن جاتا ہے۔ اور وہ صرف حکم کی تعمیل
نہیں رہتا؛ وہ اجتماعی ملکیت کا احساس بن جاتا ہے۔
ہمیں اپنی روایات کو ختم نہیں کرنا چاہیے۔ بلکہ ہمیں اپنی
روایات کے اندر چھپی ہوئی خوبصورتی کو تلاش کرنا چاہیے اور جو چیز وقت کے ساتھ
اپنی معنویت کھو چکی ہو، اسے نئے شعور کے ساتھ بیان کرنا چاہیے۔ ہمارے بزرگوں نے
مل کر نہریں بنائیں، راستے بنائے، زمینیں آباد
کیں، ایک دوسرے کے مشکل وقت میں ساتھ دیا، اور یہ سب کچھ انہوں نے اس لیے کیا کیونکہ وہ جانتے تھے کہ
پہاڑوں میں کوئی فرد اکیلا زندہ نہیں رہ سکتا۔ اجتماع میں ہی طاقت تھا۔ آج حالات بدل گئے ہیں۔ ہماری
ضروریات بدل گئی ہیں۔ ہمارے وسائل بدل گئے ہیں۔ ہمارے پاس مشینیں ہیں، ادارے ہیں،
حکومتیں ہیں اور جدید سہولیات ہیں۔ لیکن ایک چیز آج بھی اتنی ہی اہم ہے اور وہ
ہے کہ "ایک دوسرے کے لیے ضرورت پہ کھڑے ہونے کا جذبہ"۔ اس جذبے کو
زندہ رکھنے کے لیے ہمیں شاید "رجاکی" کی نہیں، بلکہ ایک ایسے تصور کی
ضرورت ہے جو اختیار، محبت، خدمت اور اجتماعی ذمہ داری کو یکجا کرے۔ یہ بھی ضروری ہے کہ ہم ماضی کے کسی لفظ کو محض
اس لیے رد نہ کردیں کہ اس کا تاریخی پس منظر مشکل یا متضاد رہا ہے۔
رجاکی ہماری اجتماعی تاریخ
کا حصہ ہے۔ اسے مٹانے کی ضرورت نہیں۔ اسے سمجھنے کی ضرورت ہے۔ ہم اسے تاریخ کے ایک
اہم ورثے کے طور پر محفوظ رکھ سکتے ہیں، اس پر تحقیق کر سکتے ہیں، اپنے بچوں کو اس
کے تاریخی پس منظر سے آگاہ کر سکتے ہیں اور یہ بتا سکتے ہیں کہ کس طرح ایک ہی
روایت وقت کے ساتھ مختلف معنی اختیار کرتی رہی۔
لیکن جب ہم آج کی رضاکارانہ
اجتماعی خدمت کی بات کریں تو شاید رجاکی کے بجائے کوئی ایسا لفظ استعمال کرنا
زیادہ مناسب ہوگا جو ہمارے موجودہ اجتماعی شعور کی ترجمانی کرے۔ یا شاید بروشسکی زبان سے ہی ایسا کوئی خوبصورت لفظ دریافت کیا جائے جو اس جذبے کو
زیادہ بیان کر سکے۔
آخر میں، شاید اصل سوال یہ نہیں کہ ر جاکی کہنا ہے یا نہیں کہنا؟ اصل سوال یہ ہے کہ "ہم اپنی آنے والی نسل
کو اجتماعی خدمت کا کون سا تصور دینا چاہتے ہیں؟" کیا ہم چاہتے ہیں کہ وہ اجتماعی کام کو ایک
ایسی ذمہ داری سمجھیں جو انہیں کسی کے حکم پر، دباؤ میں یا بادلِ نخواستہ کرنی ہے؟
یا ہم چاہتے ہیں کہ وہ یہ سمجھیں کہ یہ میرا گاؤں ہے، یہ میری نہر ہے، یہ میری
مسجد ہے، یہ میرا جماعت خانہ ہے، یہ میرا راستہ ہے، اور اس کی بہتری میں میرا حصہ
بھی ہے۔ اگر دوسرا تصور ہمارا مقصد ہے تو پھر شاید ہمیں اپنی زبان میں بھی اس کے
لیے ایک نیا شعوری راستہ بنانا ہوگا۔
رجاکی شاید ہمارے ماضی کی
ایک یاد ہے؛ رضاکاری جیسا کوئی لفظ ہمارے
مستقبل کا ایک انتخاب ہوسکتی ہے۔ اور شاید یہی وہ سفر ہے جس کی ہمیں ضرورت ہے، مجبوری
سے اختیار تک، حکم سے شعور تک، مشقت سے خدمت تک، اور رجاکی سے رضاکاری تک۔ کیونکہ
کسی معاشرے کی اصل ترقی صرف اس وقت نہیں ہوتی جب لوگ مل کر کام کریں؛
اصل ترقی اس وقت ہوتی ہے جب
لوگ مل کر کام کرنے کو اپنا حق، اپنی ذمہ داری اور اپنی خوشی سمجھنے لگیں۔
