چراغ
ابھی روشن ہے
اس شہر میں اسے آئے ہوئے
کئی برس گزر چکے تھے۔
ابتدا میں وہ یہاں اجنبی
تھا۔ چند گلیاں، چند نئے چہرے، چند رسمی ملاقاتیں—بس اتنا ہی تعلق تھا۔ مگر وہ ان
لوگوں میں سے نہیں تھا جو کسی جگہ صرف رہتے ہیں۔ جہاں اس کا گھر بنتا، وہاں آہستہ
آہستہ اس کا دل بھی بسنے لگتا۔
اس نے یہاں بھی وہی کیا جو
وہ ہمیشہ سے کرتا آیا تھا۔
کسی بچے کو پڑھائی میں مدد
چاہیے ہو تو وہ موجود ہوتا۔ نوجوانوں کے لیے کوئی سرگرمی ہو تو سب سے پہلے ہاتھ
بڑھاتا۔ والدین کے لیے کوئی نشست ہو تو انتظام میں لگ جاتا۔ کسی اجتماعی کام کے
لیے لوگوں کو اکٹھا کرنا ہو تو وہ خاموشی سے دروازے کھٹکھٹاتا۔
اسے کبھی یہ خیال نہیں آیا
کہ وہ کوئی بڑا کام کر رہا ہے۔
اس کے نزدیک خدمت کا مطلب
ہی یہ تھا کہ جہاں ضرورت نظر آئے، وہاں خود کو حاضر کر دیا جائے۔
شاید اسی لیے اس نے کبھی یہ
حساب بھی نہیں رکھا کہ اس نے کتنا وقت دیا، کتنی سرگرمیوں میں حصہ لیا، کتنے لوگوں
کے ساتھ بیٹھا یا کتنی بار اپنا کام چھوڑ کر کسی اور کے کام آیا۔
وہ بس کرتا رہا۔
اور کرتے کرتے ایک دن اسے
احساس ہوا کہ وہ اس جگہ میں اجنبی نہیں رہا۔
اس نے یہاں اپنا گھر بنا
لیا تھا۔
صرف اینٹوں اور پتھروں کا
نہیں۔
لوگوں کے درمیان۔
پھر ایک دن، کئی برس بعد،
ایک معمولی سا واقعہ پیش آیا۔
بظاہر معمولی۔
اتنا معمولی کہ شاید کسی
دوسرے شخص کے لیے چند لمحوں کی تلخی سے زیادہ کچھ نہ ہوتا۔
مگر بعض واقعات اپنی شدت سے
نہیں، اپنی جگہ سے انسان کو توڑتے ہیں۔
وہ ایک بڑے اجتماعی دن کے
بعد لوگوں کے ہجوم میں گھر کی طرف جا رہا تھا کہ اچانک ایک شخص نے اس کا راستہ روک
لیا۔
چند سخت الفاظ۔
کچھ ایسا لہجہ جس کی اسے
توقع نہیں تھی۔
اور چند لمحوں کے لیے وہ
وہیں کھڑا رہ گیا۔
اسے غصے سے زیادہ حیرت
ہوئی۔
اس لیے نہیں کہ دنیا میں
بدتمیز لوگ نہیں ہوتے۔
بلکہ اس لیے کہ اسے یقین
تھا کہ یہاں ایسا نہیں ہوگا۔
وہ اس جگہ کو اپنا سمجھتا
تھا۔
اور شاید دل کی گہرائی میں
یہ بھی سمجھتا تھا کہ جس کمیونٹی کے لیے انسان برسوں خلوص سے کام کرے، وہاں اگر
کوئی اختلاف بھی ہو تو کم از کم عزت کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوٹے گا۔
مگر اس دن دامن چھوٹ گیا۔
وہ خاموشی سے واپس آیا۔
اس نے شور نہیں کیا۔
کسی کو برا بھلا نہیں کہا۔
صرف اس واقعے کی تمام
تفصیلات ان لوگوں تک پہنچا دیں جنہیں وہ اس معاملے کو دیکھنے کا اہل سمجھتا تھا۔
پھر انتظار شروع ہوا۔
ایک مہینہ گزر گیا۔
کوئی جواب نہیں آیا۔
دوسرا مہینہ آیا اور گزر
گیا۔
پھر تیسرا۔
خاموشی اپنی جگہ قائم رہی۔
وہ ہر گزرتے دن کے ساتھ ایک
عجیب سوال اپنے اندر اٹھتا محسوس کرتا:
"کیا
واقعی کسی نے محسوس نہیں کیا کہ میرے ساتھ کچھ ہوا ہے؟"
پھر ایک اور سوال آیا:
"یا
شاید کسی نے محسوس کیا، مگر کسی کو پوچھنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی؟"
اس نے کسی سے کچھ نہیں کہا۔
بس آہستہ آہستہ پیچھے ہٹنے
لگا۔
پہلے ایک سرگرمی سے۔
پھر دوسری سے۔
پھر ایک دن اس نے وہ کمیٹی
بھی چھوڑ دی جس کا حصہ رہ کر وہ برسوں کام کرتا رہا تھا۔
لوگوں نے شاید اس کی غیر
موجودگی محسوس کی۔
وہ جانتا تھا کہ محسوس کی۔
مگر عجیب بات یہ تھی کہ کسی
نے اس سے پوچھا نہیں:
"تم
اچانک اتنے خاموش کیوں ہوگئے؟"
اور کبھی کبھی انسان کو
انصاف سے پہلے صرف ایک سوال چاہیے ہوتا ہے۔
ایک سادہ سا سوال۔
"کیا ہوا ہے؟"
مگر وہ سوال نہیں آیا۔
وقت گزرتا گیا۔
ایک سال۔
پھر دوسرا۔
وہ اب بھی اسی شہر میں رہتا
تھا۔
وہی سڑکیں تھیں۔
وہی لوگ تھے۔
وہی کمیونٹی تھی۔
اس کا گھر بھی وہیں تھا۔
مگر اس کے اندر کچھ بدل چکا
تھا۔
اس نے خدمت کرنا نہیں چھوڑا
تھا۔
یہ بات شاید سب سے کم لوگوں
نے سمجھی۔
وہ آج بھی کسی دوسری جگہ
جاتا، نوجوانوں کے ساتھ بیٹھتا، بچوں کے لیے کچھ کرتا، کسی پروگرام میں ہاتھ
بٹاتا، کسی ضرورت مند کے کام آتا۔
وہ چراغ جو برسوں سے اس کے
اندر جل رہا تھا، وہ اب بھی روشن تھا۔
بس اس نے ایک جگہ اس چراغ
کو جلانا چھوڑ دیا تھا۔
ایک شام وہ ایک چھوٹے سے
اجتماع سے واپس آ رہا تھا۔ وہاں اس نے چند نوجوانوں کے ساتھ کئی گھنٹے گزارے تھے۔
جاتے ہوئے ایک لڑکے نے اس کا ہاتھ پکڑ کر کہا تھا:
"آپ اگلی بار بھی آئیں
گے نا؟"
وہ مسکرایا تھا۔
"ہاں، کیوں نہیں۔"
راستے میں اسے اچانک خیال
آیا کہ شاید انسان کا کام ہر دروازے پر روشنی کرنا نہیں ہوتا۔
کچھ دروازے بند بھی ملتے
ہیں۔
کچھ جگہیں خاموش بھی رہتی
ہیں۔
اور کچھ لوگ آپ کے خلوص کو
سمجھ نہیں پاتے۔
مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ
چراغ بجھا دیا جائے۔
چراغ کا کام روشنی دینا ہے۔
جہاں روشنی کی قدر نہ ہو،
وہاں چراغ کو زبردستی جلائے رکھنا بھی ضروری نہیں۔
کبھی کبھی اسے اٹھا کر آگے
بڑھ جانا چاہیے۔
وہ چلتا رہا۔
اس کے پیچھے شہر کی روشنیاں
تھیں۔
آگے بھی کچھ گھر تھے۔
کچھ اجنبی چہرے تھے۔
کچھ نئے بچے تھے۔
کچھ نوجوان تھے جنہیں شاید
کسی ایسے شخص کی ضرورت تھی جو ان سے کہے:
"چلو،
کچھ کرتے ہیں۔"
وہ مسکرایا۔
اور آگے بڑھ گیا۔
کیونکہ اس نے ایک بات سیکھ
لی تھی:
خدمت ختم نہیں ہوئی تھی۔
صرف راستہ بدل گیا تھا۔
اور چراغ؟
چراغ ابھی روشن تھا۔
